منگل 3 فروری 2026 - 12:27
عظیم الشان انقلابِ اسلامی ایران؛ ایک بیداری، ایک قیادت، ایک مسلسل عہد

حوزہ/ انقلابِ اسلامی ایران محض بیسویں صدی کا ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ تاریخِ انسانیت کے ان نادر لمحات میں سے ایک ہے جب ایک قوم نے اپنے ایمان، شعور اور قربانی کے ذریعے اپنے مقدر کو خود بدلنے کا فیصلہ کیا۔ یہ انقلاب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، جب قومیں اپنے رب پر بھروسہ کریں، اپنی شناخت کو پہچانیں اور حق پر ڈٹ جائیں تو طاغوتی طاقتیں ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔

تحریر: سیدہ ناظمہ حسین

حوزہ نیوز ایجنسی | انقلابِ اسلامی ایران محض بیسویں صدی کا ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ تاریخِ انسانیت کے ان نادر لمحات میں سے ایک ہے جب ایک قوم نے اپنے ایمان، شعور اور قربانی کے ذریعے اپنے مقدر کو خود بدلنے کا فیصلہ کیا۔ یہ انقلاب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، جب قومیں اپنے رب پر بھروسہ کریں، اپنی شناخت کو پہچانیں اور حق پر ڈٹ جائیں تو طاغوتی طاقتیں ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔

ایران میں انقلاب سے پہلے کا دور بظاہر ترقی اور جدیدیت کا دعویدار تھا، مگر اس چمک کے پیچھے سیاسی غلامی، اخلاقی انحطاط اور دینی بیگانگی چھپی ہوئی تھی۔ عوام کی آواز دبائی جاتی تھی، اختلافِ رائے جرم سمجھا جاتا تھا، علماء اور دیندار افراد کو قید و جلاوطنی کا سامنا تھا، اور اسلامی اقدار کو شعوری طور پر معاشرے سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ایران کی دولت اور وسائل بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لیے استعمال ہو رہے تھے اور قوم آہستہ آہستہ اپنی خودی کھو رہی تھی۔

ایسے ماحول میں امید کا چراغ جلانا آسان نہ تھا، مگر یہی وہ وقت ہوتا ہے جب تاریخ کے دھارے کو بدلنے کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی کو منتخب کرتا ہے۔ حضرت امام خمینیؒ کا قیام اسی سلسلے کی ایک روشن کڑی تھا۔ امامؒ نے نہ صرف شاہی نظام کو للکارا بلکہ سب سے پہلے خوف کے بت کو توڑا۔ انہوں نے قوم کو یہ باور کرایا کہ اصل طاقت اسلحہ یا دولت میں نہیں بلکہ ایمان، شعور اور اتحاد میں ہے۔

امام خمینیؒ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے سیاست کو اخلاق اور دین سے جدا نہیں کیا۔ ان کے نزدیک اسلام ایک مکمل نظامِ حیات تھا جو فرد کی اصلاح سے لے کر معاشرے اور حکومت کی تشکیل تک رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ولایتِ فقیہ کے تصور کو زندہ کر کے امت کو ایک ایسی قیادت دی جو نہ صرف فقیہ ہو بلکہ زمانے کی پیچیدگیوں سے بھی آگاہ ہو۔

یہ انقلاب کسی ایک طبقے کی تحریک نہیں تھا بلکہ پوری قوم کی آواز تھا۔ نوجوانوں نے سڑکوں پر آ کر قربانیاں دیں، علماء نے فکری رہنمائی فراہم کی، اور خواتین نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔ ایرانی خواتین نے ثابت کیا کہ حجاب کمزوری نہیں بلکہ مزاحمت کی علامت ہے۔ انہوں نے گھروں کی تربیت سے لے کر میدانِ عمل تک انقلاب کی روح کو زندہ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ انقلاب جڑ پکڑ سکا اور وقتی جوش کے بجائے ایک مستقل تحریک بن گیا۔

بالآخر 11 فروری 1979ء وہ تاریخی دن ثابت ہوا جب صدیوں پر محیط شاہی نظام کا خاتمہ ہوا اور اسلامی جمہوریہ ایران کا قیام عمل میں آیا۔ یہ دن صرف ایران کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے خوشخبری تھا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اسلام عصرِ حاضر میں بھی قیادت اور نظام فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مگر انقلاب کی کامیابی کے ساتھ ہی مشکلات کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا۔ دشمنوں نے مسلط کردہ جنگ، معاشی پابندیوں، میڈیا پروپیگنڈے اور ثقافتی یلغار کے ذریعے انقلاب کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مقصد واضح تھا: ملتِ ایران کو مایوس کرنا اور انقلاب کو اندر سے کھوکھلا کرنا۔ مگر یہاں بھی ملتِ ایران نے غیر معمولی صبر، بصیرت اور قربانی کا مظاہرہ کیا۔ شہداء کے خون نے انقلاب کی جڑوں کو مزید مضبوط کر دیا۔

امام خمینیؒ کے وصال کے بعد بعض دشمن قوتوں نے یہ سمجھا کہ شاید اب انقلاب کمزور پڑ جائے گا، مگر رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی الحسینی خامنہ‌ای (دام ظلہ) کی قیادت نے اس خیال کو غلط ثابت کر دیا۔ رہبرِ معظم نے نہایت حکمت، شجاعت اور فکری گہرائی کے ساتھ انقلاب کی کشتی کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے نوجوان نسل کو انقلاب کا اصل سرمایہ قرار دیا، خود انحصاری، علمی ترقی اور ثقافتی استقلال پر زور دیا، اور مظلوم اقوام کی حمایت کو انقلاب کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا۔

آج انقلابِ اسلامی ایران صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ ایک فکر، ایک مدرسہ اور ایک مثال بن چکا ہے۔ فلسطین، لبنان، یمن اور دنیا کے دیگر مظلوم خطوں میں مزاحمت کی جو روح نظر آتی ہے، اس کے پیچھے اسی انقلاب کی فکری روشنی کارفرما ہے۔ یہ انقلاب ہمیں سکھاتا ہے کہ عزت، آزادی اور خودداری کسی کی خیرات نہیں بلکہ جدوجہد، ایمان اور قربانی سے حاصل ہوتی ہے۔

انقلابِ اسلامی ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اصل جنگ صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ فکر، ثقافت اور شناخت کی جنگ ہے۔ اگر قومیں اپنی دینی اور اخلاقی بنیادوں سے جڑی رہیں تو کوئی استعماری طاقت انہیں غلام نہیں بنا سکتی۔ یہی پیغام آج کے نوجوانوں، طلبہ اور خاص طور پر طالبات کے لیے نہایت اہم ہے کہ وہ علم، تقویٰ اور بصیرت کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو پہچانیں۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ انقلابِ اسلامی ایران کوئی مکمل ہو چکا واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ اور جاری جدوجہد ہے۔ یہ ہر نسل سے عہد لیتا ہے کہ وہ حق کے ساتھ کھڑی رہے، باطل کے سامنے سر نہ جھکائے اور ولایت کے پرچم کو تھامے رکھے۔ جب تک یہ روح زندہ ہے، انقلاب بھی زندہ ہے۔

انقلابی نعرے

نہ مشرقی، نہ مغربی — اسلامی جمہوریہ

زندہ باد انقلابِ اسلامی ایران

زندہ باد ولایتِ فقیہ

مرگ بر استکبارِ عالمی

مرگ بر صہیونیت

دعا

اے پروردگار!

ہمیں حق کو پہچاننے، اس پر عمل کرنے اور اس کے لیے قربانی دینے کی توفیق عطا فرما۔

ہمیں انقلابِ اسلامی کے حقیقی اہداف کا امین بنا،

ہمیں ولایتِ فقیہ سے قلبی، فکری اور عملی وابستگی نصیب فرما،

اور دنیا بھر کے مظلوموں کو ظالموں کے شر سے نجات عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha